Are You sure you want to delete Member from list ?
افق پہ جب کھلے گی جنتِ بریں کی سلطنت
پکاریں گے وہ خوش نصیب، جن پہ ہوگی رحمت
"سراسر حق تھا وہ فرمان، سچی نکلی ہر بشارت
بتاؤ! تم نے بھی پایا وہی، جو تھی رب کی ضمانت؟"
پھر آئے گی صدائے غم، دہکتے زندانوں سے
جوابِ "ہاں" ملے گا کانپتے نوحہ گر ایوانوں سے
مگر پچھتاوے کی تکرار اب کچھ کام نہ آئے گی
وہ حسرت، موت بن کر روح کو پل پل ستائے گی
تپتے ہوئے شعلوں سے پھر اک فریاد ابھرے گی
کہ شاید اہل لُطف کی کوئی نظر ادھر ٹھہرے گی
وہ پیاسے چیخ اٹھیں گے "ذرا سا پانی ہی دے دو
جو رزق پایا ہے تم نے، اس کا کچھ حصّہ ہی دے دو"
جواب آئے گا، "پانی بھی تم پہ بند ہے آج
حرام ہے تم پہ ہر راحت، کہ وقتِ عدل ہے آج
تمہی تو تھے جنہوں نے دین کو اک کھیل سمجھا تھا
حیاتِ مختصر کو دائمی اور مستقل سمجھا تھا"
پوچھیں گے اہل نُور تب، اک درد کی لہر کے ساتھ
"تمہیں کس شے نے پھینکا ہے اس مہیب قہر کے ساتھ؟"
وہ بولیں گے "نہ ہم سجدوں میں سر اپنا جھکاتے تھے
نہ ہم نادار و مسکیں کو کبھی کھانا کھلاتے تھے
فقط باطل کی محفل میں مگن رہنا ہی مقصد تھا
حساب و حشر کے دن سے ہمارا دل تو غافل تھا"
اسی عالم میں وہ چہرہ چھپائے پاس آئیں گے
جو دنیا میں تھے سرکش، اب سہارے ڈھونڈ پائیں گے
وہ پکاریں گے "ذرا ٹھہرو! ہمیں بھی تھوڑی روشنی دے دو
تمہارے پاس جو نُور ہے، اس سے زندگی دے دو"
"
مگر تب بیچ میں اک سنگلاخ دیوار آ کے ٹھہرے گی
جو رحمت اور اذیت کو جدا اک بار کر دے گی
ادھر نُور و سکوں ہوگا، ادھر اندھیر اور وحشت
یہی انجامِ غفلت ہے، یہی باطل کی کڑواہٹ