Are You sure you want to delete Member from list ?
نسانی تاریخ میں عورت کے مقام کا تعین ہمیشہ سے ایک حساس موضوع رہا ہے۔ مختلف تہذیبوں نے عورت کو مختلف نظریات سے دیکھا، لیکن اسلام وہ واحد دین ہے جس نے عورت کو محض ایک سماجی اکائی کے طور پر نہیں، بلکہ ایک مقدس ہستی اور معاشرے کی بنیاد کے طور پر متعارف کرایا۔
تعلیم کا مقصد اور فکری توازن
تعلیم کسی بھی انسان کا بنیادی حق ہے، خواہ وہ مرد ہو یا عورت۔ تاہم، تعلیم کا اصل مقصد صرف معاشی دوڑ میں شامل ہونا نہیں بلکہ شعور کی بیداری ہے۔ دورِ حاضر میں ایسی تعلیم کی ضرورت ہے جو عورت کے وقار میں اضافہ کرے، نہ کہ اسے اس کی اپنی جڑوں اور فطرت سے بیگانہ کر دے۔ اسی فکری نکتے کی ترجمانی یہ شعر کرتا ہے:
جس علم کی تاثیر سے زن ہوتی ہے نا زن
کہتے ہیں اسی علم کو اربابِ نظر موت
اس کا مطلب یہی ہے کہ وہ علم جو عورت سے اس کا اصل جوہر، اس کی حیاء اور اس کا معزز مقام چھین لے، وہ دراصل اس کی شخصیت کی موت ہے۔ حقیقی علم وہی ہے جو اسے اپنی شناخت پر فخر کرنا سکھائے۔
:حقوقِ نسواں: قرآن و حدیث کی روشنی میں
اسلام نے عورت کو وہ حقوق دیے جن کا تصور چودہ سو سال پہلے موجود نہ تھا۔
تعلیم کا حق: نبی کریم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے:
علم حاصل کرنا ہر مسلمان (مرد اور عورت) پر فرض ہے۔" (ابنِ ماجہ)
وراثت اور معاشی استحکام: قرآن کریم نے واضح طور پر عورت کا حصہ وراثت میں مقرر کیا تاکہ وہ کسی کی محتاج نہ رہے۔
عزت و احترام: آپ ﷺ نے فرمایا:
"تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہترین ہو۔" (ترمذی)
فلسفہِ حیات اور اسلامی حقوق
اسلامی نقطہ نظر سے عورت کی عظمت اس کی "عفت" اور اس کے "کردار" میں ہے۔ جہاں جدید دنیا آزادی کے نام پر اکثر خاندانی نظام کو کمزور کرتی ہے، وہاں اسلام عورت کو "ماں" کے روپ میں جنت کی نوید دیتا ہے اور "بیٹی" کے روپ میں رحمت قرار دیتا ہے۔ اسلام عورت پر معاشی بوجھ نہیں ڈالتا بلکہ اسے تحفظ فراہم کرتا ہے تاکہ وہ ایک مضبوط نسل کی آبیاری کر سکے۔
عورت کی حقیقی کامیابی اس بات میں ہے کہ وہ علم کے نور سے منور ہو کر اپنے حقوق اور فرائض کی پہچان حاصل کرے۔ جب علم اور حیاء ایک جگہ جمع ہوتے ہیں، تو ایک صالح معاشرہ جنم لیتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم عورت کو وہ تمام حقوق دیں جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے مقرر کیے ہیں، تاکہ انسانیت اپنے اصل مقام کو پا سکے