Are You sure you want to delete Member from list ?
Firdous Fatima Ansari
IFB2
Love Mohammad pubh❤️!"
یہ نعرہ، یہ احتجاج، یہ ٹرینڈ ہر سال میلاد النبی ﷺ کے موقع پر ضرور نظر آتا ہے، اور اس بار یہ کان پور واقعے سے متنازعہ بنا ۔
· یہ واقعہ 4 ستمبر 2025 کو کان پور میں میلاد النبی ﷺ کی تقریبات کے دوران پیش آیا۔
· اس دن سیّد نگر (روات پور پولیس ایریا) میں مسلم نوجوانوں نے "I Love Muhammad" (میں محمد ﷺ سے محبت کرتا ہوں) لکھا ہوا ایک بینر لگایا۔
· کچھ دائیں بازو / ہندوتوا گروہوں نے اس بینر پر اعتراض کیا اور اسے ایک "نیا رواج" قرار دیا۔
· کشیدگی کے دوران کچھ نوجوانوں پر دوسرے مذہبی گروہ کے مذہبی پوسٹر پھاڑنے کالزام لگا۔
· پولیس نے گروہوں کے درمیان دشمنی پھیلانے اور مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے سے متعلق دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی۔
· اس مقدمے سے متعلق 20 سے زائد مسلم نوجوانوں کے خلاف کارروائی ہوئی۔
اس کے بعد کیا ہوا؟
اس واقعے کے بعد ملک بھر کے مسلمانوں نے الگ الگ ریاستوں میں "I Love Muhammad" کی ریلیاں نکالیں، جس میں پوسٹرز اور بینرز کے ساتھ اپنے نبی ﷺ سے محبت کا اعلان کیا۔ سوشل میڈیا پر ڈی پی اور پوسٹرز کے ٹرینڈ چلائے گئے۔ اس سلسلے میں 21 ایف آئی آرز درج ہوئیں اور 38 افراد گرفتار ہوئے ہیں۔
کیا ہم واقعی اپنے نبی سے محبت کرتے ہیں جیسا کہ قرآن و حدیث میں بتایا گیا ہے؟ کیا صرف زمانے سے اقرار کرنا کافی ہے؟ میلاد کے موقع پر جلسے، جلوس، پوسٹرز، بینرز لگانا، ریلیاں نکالنا یا پھر اپنے اپنے سوشل میڈیا پر پوسٹنگز کرکے ڈی پی لگا کر اظہارِ محبت کرنا کافی ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ سے سچی محبت کا تعلق دل کی گہرائیوں اور عملی زندگی سے ہے۔ محبت صرف الفاظ، تقریبات یا سوشل میڈیا کی حد تک محدود نہیں ہوتی۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے محبت کی سب سے بڑی نشانی یہ بیان فرمائی ہے:
قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ
"کہہ دیجیے (اے نبیؐ) کہ اگر تم واقعی اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو، تب اللہ تم سے محبت کرے گا۔"
(سورۃ آل عمران: 31)
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ:
· محبت کی بنیاد "اتباع" یعنی عمل اور پیروی ہے۔
· جذباتی اظہار یا رسومات اگر سنت کے مطابق نہ ہوں تو وہ محبت نہیں، صرف رسم باظہار کافی ہے؟ہرگز نہیں!
محبت کے تقاضے — قرآن و حدیث کی روشنی میں
1. اطاعت بلا شرط:
ارشادِ ربانی ہے:
"اور رسولؐ کے حکم کی مخالفت مت کرو۔" (سورۃ الحشر: 7)
یہی محبت کی پہلی شرط ہے۔
2. سنت کو زندگی میں اتارنا:
آپ ﷺ نے فرمایا:
"تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں بن سکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے والد، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔"
(صحیح بخاری)
3. اخلاقِ محمدی ﷺ کو اپنانا:
صادق امین طاہر اور ایسے کئی اوصاف کو seeratunabi سے جانکر عمل کرنا آپکی معاملات آپکی daily routine کو جانکر اپنانے کی کوشش کرنا۔
جھوٹ، غیبت، دھوکہ، غیبت — ان سب سے پرہیز کرنا محبت کی علامت ہے۔
4. دین کی سمجھ اور عمل:
محبت صرف جذبات نہیں، دین کو سمجھنا، اس پر عمل کرنا اور دوسروں تک پہنچانا بھی ہے۔
---
کیا جلوس، پوسٹرز اور ڈی پی وغیرہ گناہ ہیں؟
· اگر یہ کام سنت کے دائرے میں ہوں، شرک و بدعت سے پاک ہوں، امت میں محبت اور بیداری پیدا کریں، تو پھر ان کا اہتمام بھی محبت کا ایک حصہ ہو سکتا ہے۔
· لیکن اگر یہ صرف "دکھاوے" یا "فیشن" بن کر رہ جائیں اور ہماری عملی زندگی میں سنت کے برعکس رویہ ہو، تو پھر یہ محبت نہیں، "منافقت" ہے
حقیقی محبت رسول ﷺ وہ ہیں جو آپ ﷺ کے منہج، طریقہ اور شریعت کو اپنائیں۔
نبی ﷺ سے محبت کا تقاضا ہے کہ ہم ان کی سنت کو زندہ کریں — نہ کہ صرف "زبانی کلامی" یا "نمائشی" محبت تک محدود رہیں۔
۔ کیا ہماری نماز نبی کی نماز جیسی ہی؟ کیا ہمارا کوئی عمل قرآن او سنت کے مطابق ہے؟ 5 ٪بھی اپنے نبی کے اوساف ، attributes والا کردار ہے جبکہ اللہ نی ہمارے لئے ہمارے نبی کی سیرت کو بہترین role model بنایا ہے لیکن ہمارے حلالت اسکے بالکل الگ ہیں جو میلاد کے موقوع پر اپنے نبی کی محبت کا دم بھرتے ہیں انہی میی سے کئی مسلمان اپنی لڑائیوں میی ماں بہن کی گالیہ دیتے ہیں (نہ جانے مرد کیو اپنی لڑائیوں میی ماں بہن کو لاتے ہیں) اور ایسے ایسے گناہ کے کام کرتے ہے اور اپنی Muslim Identity کو متنازعہ بناتے ہیں
تو پھر احد لیجیے کے اپنی مسلم پہچان کا لحاظ کرینگے اور صرف زبان سے محبت کا اظہار ہی نہیں بلکہ قرآن سنت سیرت کو پڑھکر سمجھکر اپنی زندگی میں ڈھالینگے اور اپنے اندر کی برائی کو دور کرکے تزاکیہ کرینگے پھر پورے دل سے اپنے نبی s.a.w کی محبت کا اعلان کرینگے.
I Love Prophet Muhammad s.a.w
بقولے علّامہ اِقبال
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوہے قلم تیرے ہیں