Are You sure you want to delete Member from list ?
ایمپتھی (Empathy)
مہیا کرنے کا بہترین ذریعہ ہے Oxytocin دوسروں کو
مگر اگر ہم اس نعمت کو صرف اپنی ذات تک محدود رکھیں، تو یہ ہمارے ڈوپامین ریسیپٹرز
Dopamine receptors
کو اس قدر پھیلا دیتی ہے کہ آخرکاریہ ہمارے لیے خود ہی ہلاکت کا سبب بن جاتی ہے۔
پھر ہم اتنے خود غرض بن جاتے ہیں کہ ہمیں اپنی خوشی، اپنے آرام، اپنے غم اور اپنے سکون کے سوا کچھ دکھائی ہی نہیں دیتا۔
یہی خود غرضی ہمیں فرعون بنا دیتی ہے۔
تب ہی تو ہمیں فلسطین کے جلتے، کٹتے، مرتے ہوئے مرد، عورتیں اور بچے نظر نہیں آتے۔
ہم ان پر مسلط کیے گئے انسانی عذاب کو محض ایک خبر سمجھ کر گزر جاتے ہیں۔
ہماری آنکھیں بند ہو جاتی ہیں، کان سننے سے انکار کر دیتے ہیں، اور دل پتھر بن جاتے ہیں۔
اگر ہم نے اس ایمپتھی کو صرف اپنے اندر محسوس کرنے کے بجائے دوسروں کے لیے بھی عملی طور پر استعمال کیا ہوتا،
تو شاید ہم اپنے گھروں کی اونچی دیواروں کے اندر بیٹھ کر بھی
فلسطین کی عمارتوں کے ملبے تلے دبے دلوں کی فریادیں سن لیتے۔
ہم اسرائیل جیسے درندے کو سورج نکلنے سے پہلے ہی اس کی بل میں واپس دھکیل دیتے۔
اس طرح ہم نہ صرف موجودہ امت بلکہ آنے والی نسلوں میں بھی اوکسی ٹوسن بانٹ رہے ہوتے — محبت، احساس اور ایمان کا ہارمون۔
مگر افسوس!
ہم تو ڈوپامینرجک زومبیز
(Dopaminergic Zombies)
بن چکے ہیں۔
اسرائیل نے پہلا بم چلایا تھا، مگر باقی کے بم ہم نے خود اپنے اندر چلا دیے —
اور یوں اپنے ہی ہزاروں فلسطینی بچوں کو موت کے حوالے کر دیا۔
فلسطین کی جنگ ہماری ہوتی، اگر ہم اپنے نبی کریم ﷺ کی اس حدیث مبارکہ کو سمجھتے اور اس پر عمل کرتے:
> "تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا، جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے۔"
(صحیح مسلم، حدیث 170)
اگر ہم واقعی دنیا و آخرت کی بھلائیاں چاہتے ہیں،
تو ہمیں اپنی خود غرضی سے نکل کر
نہ صرف فلسطین بلکہ پوری امت کے لیے
اس حدیثِ مبارکہ میں بیان کیے گئے سچے مومن کی طرح بننا ہوگا۔
اللہ ہمیں وہ دل عطا کرے جو صرف اپنے لیے نہیں، بلکہ پوری انسانیت کے لیے دھڑکے۔
اور ہمیں وہ ایمان دے جو احساسِ غیر کے بغیر نامکمل سمجھا جائے۔
آمین۔
Fozia Ghafoor
EI batch 5
foziaghafoorfg1@gmail.com