Are You sure you want to delete Member from list ?
حقیقی مظلوم ہونا بمقابلہ مظلومیت کا ناٹک کرنا
18-4-2026
Shagufta Urooj CT-Batch-05
زندگی کا اصل رخ یہی ہے, دکھ، مشکلات، دھوکے اور نقصان کا ایک مسلسل سلسلہ۔ ہر نیا دن اپنے ساتھ ایک نئی آزمائش لے کر آتا ہے۔ ہم میں سے بہت سے لوگ ایسے دردناک حادثات سے گزرتے ہیں جو روح تک کو جھنجھوڑ دیتے ہیں, چاہے وہ جنسی تشدد کا کرب ہو، کسی پیارے کی موت کا صدمہ، یا پھر کوئی ایسا حادثہ یا قدرتی آفت جس میں برسوں کی محنت سے بنائی گئی املاک پل بھر میں ضائع ہو جائے۔ یہ تجربات انسان کو واقعی زخمی اور بے بس کر دیتے ہیں۔ ان لمحات میں 'مظلوم' ہونا کوئی فرضی بات نہیں، انسانی سفر کا ایک تلخ اور حقیقی حصہ ہے جو مکمل ہمدردی اور شفا کے لیے وقت مانگتا ہے۔ لیکن، اپنی حقیقی تکلیف کو تسلیم کرنے اور ‘مظلومیت’ کو اپنی شناخت یا ایک حکمتِ عملی بنا لینے کے درمیان بہت باریک مگر اہم لکیر ہوتی ہے۔ جب کوئی شخص اپنے دکھ کو ہمدردی سمیٹنے، دوسروں کو کنٹرول کرنے یا اپنی ذمہ داریوں سے بچنے کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے لگے، تو وہ مظلوم ہونے کی حد پار کر کے 'مظلوم بننے کا ڈرامہ' کرنے لگتا ہے۔
اس آرٹیکل میں ہم اسی فرق پر بات کریں گے کہ ایک حقیقی مظلوم کون ہے اور کب مصائب ایک 'پرفارمنس' بن جاتی ہیں، اور یہ دکھاوا کس طرح اس میں شامل ہر شخص کو ایک جال میں پھنسا دیتا ہے۔
مظلوم ہونا بمقابلہ مظلومیت کا ناٹک: حقیقت اور حکمتِ عملی کے درمیان فرق:
مظلوم ہونا ایک افسوسناک حقیقت ہے جو ہمدردی اور مدد کا تقاضا کرتی ہے ، جبکہ "مظلومیت کا ناٹک" (Playing the victim) ایک سوچی سمجھی حکمتِ عملی ہے۔ ایک حقیقی مظلوم، مظلومیت کا ناٹک کرنے والے، اور مظلومانہ ذہنیت (Victim Mentality) کے حامل افراد کے درمیان واضح فرق ہوتا ہے۔
حقیقی مظلوم کون ہے؟(The Actual Victim)
حقیقی مظلوم وہ شخص ہے جس نے کسی واقعے، فرد یا نظام کے ہاتھوں کوئی مخصوص، قابلِ تصدیق اور غیر مستحق نقصان، صدمہ یا محرومی برداشت کی ہو۔ انہوں نے اس تکلیف کا انتخاب خود نہیں کیا ہوتا۔ ان کا دکھ حقیقی ہوتا ہے اور ان کا بنیادی مقصد صرف ایک ہوتا ہے: ریلیف اور تحفظ کی بحالی۔
حقیقی مظلوم کی مثالیں:
وہ بچہ جو کسی رشتہ دار کے ہاتھوں جنسی زیادتی کا شکار ہو۔
وہ ملازم جسے نسلی امتیاز کی بنیاد پر نوکری سے نکال دیا جائے۔
وہ شریکِ حیات جسے اس کا ساتھی معاشی طور پر مفلوج اور تنہا کر دے۔
وہ شخص جس کا گھر قدرتی آفت میں تباہ ہو گیا ہو۔
ان کا نقصان حقیقی اور بیرونی external ہوتا ہے۔ ان کی تکلیف (جسمانی، جذباتی یا مالی) ان کے اپنے اندر سے نہیں بلکہ باہر سے مسلط کی گئی ہوتی ہے۔ ان کی خواہش اپنی پہچان بنانا نہیں بلکہ مسئلے کا حل ہوتی ہے۔ وہ اپنی "مظلومیت" کو صحت اور انصاف کے بدلے ایک لمحے میں چھوڑنے کو تیار ہوتے ہیں۔
مظلومیت کا ناٹک کرنے والے (Playing as Victim) اور مظلومانہ ذہنیت:
مظلومیت کا ناٹک کرنے والے دراصل وہ "بدمعاش" (Bullies) ہوتے ہیں جو خود کو چھپانے کے لیے مظلوم کا لبادہ اوڑھ لیتے ہیں۔ ایسے لوگ ماضی میں خود بھی کبھی نہ کبھی مظلوم رہے ہوتے ہیں۔ بدمعاش ہی بدمعاش پیدا کرتے ہیں (Bullies beget bullies) ۔ تاہم، اسے مظلومانہ ذہنیت (Victim Mentality) رکھنے والے شخص سے تشبیہ نہیں دینی چاہیے۔ مظلومانہ ذہنیت کا حامل شخص سچ مچ یہ سمجھتا ہے کہ وہ بے بس اور دوسروں کے رحم و کرم پر ہے۔ یہ ایک بے عمل اور مایوس کن حالت ہے جو عموماً بچپن کے کسی صدمے کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔
اس کے برعکس، مظلومیت کا ناٹک کرنے والا بدمعاش شعوری یا لاشعوری طور پر یہ جانتا ہے کہ مظلوم بننے سے اسے طاقت ملتی ہے۔ وہ مظلومیت کو دوسروں کو قابو کرنے، سزا دینے یا جوڑ توڑ (Manipulation) کے لیے بطور ہتھیار استعمال کرتا ہے۔ حقیقی مظلوم اپنے ظالم کو جوابدہ ٹھہراتے ہیں، جبکہ مظلومیت کا ناٹک کرنے والے اپنے ہی شکار کو قصوروار ٹھہراتے ہیں۔ اس کے لیے وہ DARVO نامی تکنیک استعمال کرتے ہیں:
D (Deny): اپنے رویے سے انکار کرنا۔
A (Attack): آواز اٹھانے والے شخص پر حملہ کرنا۔
RVO (Reverse Victim and Offender): مظلوم اور ظالم کے کرداروں کو آپس میں بدل دینا۔
مثال: وہ ظالم باپ جو مظلوم بن گیا:
14 سالہ ماریہ اپنے اسکول کونسلر کو بتاتی ہے کہ اس کا باپ "حامد" اس پر چیختا ہے، اسے ذلیل کرتا ہے اور اسے دیوار سے بھی دے مارا ہے۔ کونسلر جب حامد کو بلاتی ہے، تو حامد کا ردعمل کچھ یوں ہوتا ہے:
"مجھے یقین نہیں آ رہا کہ ماریہ میرے بارے میں ایسی باتیں کر رہی ہے، باوجود اس کے کہ میں نے اس کے لیے کیا کچھ نہیں کیا۔ وہ خود قابو سے باہر ہے، اسکول سے بھاگتی ہے، فیل ہو رہی ہے اور مجھ سے ایسے بدتمیزی کرتی ہے جیسے میری کوئی اہمیت ہی نہ ہو۔ میں نے صبر کیا، پیار سے سمجھایا، لیکن وہ مجھے مجبور کر دیتی ہے کہ میں آپے سے باہر ہو جاؤں۔ میں ایک اکیلا باپ ہوں جو دو نوکریاں کر رہا ہے، میں تھک چکا ہوں۔ میں تو اپنے ہی گھر میں ڈر ڈر کر جی رہا ہوں۔"
حامد ہر بات جھوٹ نہیں بول رہا ہوتا (ہو سکتا ہے ماریہ واقعی پڑھائی میں کمزور ہو)، لیکن وہ حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرتا ہے۔ اس کی تھکن اسے تشدد کا حق نہیں دیتی۔ "ڈر ڈر کر جینے" جیسے الفاظ استعمال کرنا دراصل وہ زبان ہے جو حقیقی مظلوم اپنے ظالم کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ "بدمعاش بطور مظلوم" کا جوہر ہے: اپنی ذمہ داری سے بچنے کے لیے دکھ کا ڈھونگ رچانا۔
Corrupt leaders بدعنوان لیڈرز: ذہنیت یا حکمتِ عملی؟
کیا بدعنوان لیڈرز واقعی مظلومانہ ذہنیت کا شکار ہوتے ہیں؟ تحقیق بتاتی ہے کہ نہیں۔ 30 ممالک کے سیاسی رہنماؤں پر کی گئی ریسرچ سے معلوم ہوا کہ تقریباً تمام لیڈرز مظلومیت کو صرف ایک حکمتِ عملی کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
ایک حقیقی مظلومانہ ذہنیت انسان کو مفلوج کر دیتی ہے، جبکہ بدعنوان لیڈرز جارحانہ انداز میں طاقت حاصل کرتے ہیں اور مخالفین کو کچلتے ہیں۔ وہ صرف اس وقت "مظلوم اور نشانہ بنائے گئے" بنتے ہیں جب ان کا احتساب ہونے لگتا ہے۔ ان کے لیے مظلومیت ایک "لباس" ہے، کوئی ذہنی کیفیت نہیں۔ یہ ایک سوچا سمجھا حربہ ہے تاکہ وہ نتائج سے بچ سکیں، ہمدردیاں سمیٹ سکیں اور اپنے جوابی حملوں کو "دفاع" قرار دے سکیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ان کی اصل پہچان 'بدمعاشی' ہے، اور مظلومیت ان کا 'عذر' ہے۔