Are You sure you want to delete Member from list ?
اگر آپ قیامت کے دن ہم سب لوگوں کا جو اس وقت اس مسجد میں آپ کی امامت میں جمعہ کی نماز ادا کر رہے ہیں یا وہ سب لوگ جو ہر روز آپ کی امامت میں پانچ وقت کی نماز ادا کرتے ہیں، کا بھار اٹھا لیں گے؟ کیا آپ ہمارے لیے اللّٰه سے درخواست کر پائیں گے کہ یہ میرا قصور ہے اور میں نے ان لوگوں کو آگاہ نہیں کیا اور نہ ہی ان کے لیے سمت متعین کی کہ جس سے وہ مظلوم مسلمانوں کی مدد کر سکیں ، وہ مظلوم مسلمان جو اس وقت فلسطین اور دوسرے ممالک میں کفار کے مظالم کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ کیا آپ یہ سارا بوجھ خود پر لے سکیں گے؟ کیا ہم سب کے حصّے کے گناہ اور جھنم کی آگ آپ اپنے کھاتے میں لکھ سکیں گے ؟
اگر نہیں تو خدارا عام مسلمانوں کو آگاہ کریں ۔ انھیں جہاد کرنے اور اس کے لیے سامان فراہم کرنے کی سوچ اور ترغیب دیں۔ اگر آپ خود کو کمزور سمجھتے ہیں کہ آپ کے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے تو یہ مت بھولیں کہ آپ ممبرِ رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر بیٹھے ہوئے ہیں، آپ کو یہ کام اور رتبہ یوں ہی نہیں دیا گیا بلکہ آپ کسی مقصد سے چنے گئے ہیں۔
عام عوام کو ایمان کے سب سے نچلے درجے پر نہ رکھیں کہ وہ بس برائی کو دیکھ کر اسے صرف دل میں برا جانیں بلکہ انھیں ایمان کے سب سے اونچے درجے پر لائیں کہ جہاں کہیں بھی مسلمانوں پر یا مظلوم غیر مسلموں پر بھی ظلم ہوگا ہم ہاتھ سے روکیں گے۔ اگر آپ اسے حکومت کا کام سمجھتے ہیں تو خود سے بڑے مفتی یا امام تک ان باتوں کو پہنچائیں کہ جو فتویٰ دے سکتے ہیں اور ان کی بات کا اثر زیادہ ہے عام مولویوں سے یا جو ڈائریکٹر پارلیمنٹ ہاؤس تک یہ بات پہنچا دیں ۔
مگر ہمارا فتویٰ بھی کمزور ہو گیا ہے ، جو فتویٰ جاری کیا ہے کہ اب جہاد فرض ہو چکا ہے ، اس پر ہم ایکشن میں کیوں نہیں آئے ؟ جس طرح پہلے نظام تھا اب بھی سب ویسا کیوں ہے؟ کیوں ہماری مسجدوں میں اعلان نہیں گونجے کہ جہاد کی تیاری شروع کی جائے؟ برائے مہربانی اس پر غور کیا جائے ۔ آپ کو حدیث یاد ہونی چاہیے کہ :
ام حصین احمسیہ رضی اللّٰہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع میں خطبہ دیتے ہوئے سنا، آپ کے جسم پر ایک چادر تھی جسے اپنی بغل کے نیچے سے لپیٹے ہوئے تھے، (گویا میں) آپ کے بازو کا پھڑکتا ہوا گوشت دیکھ رہی ہوں، میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا: ”لوگو! اللّٰہ سے ڈرو، اور اگر کان کٹا ہوا حبشی غلام بھی تمہارا حاکم بنا دیا جائے تو اس کی بات مانو اور اس کی اطاعت کرو، جب تک وہ تمہارے لیے کتاب اللّٰه کو قائم کرے“ (یعنی کتاب اللّٰه کے موافق حکم دے) ۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- (یہ حدیث) دوسری سندوں سے بھی ام حصین سے مروی ہے۔
۳- اس باب میں ابوہریرہ اور عرباض بن ساریہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الجهاد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1706]
ہمارا موجودہ حکمران اور جو پہلے حکمران گزر چکے ہیں، آج تک ان سب میں سے کس نے اللّٰه کی کتاب کو قائم کیا اور اس کے مطابق حکم دیا؟ فتوی آجانے کے بعد کوئی عملی ایکشن نہیں کیا کیا گیا ۔ اور اب ہمارے وزیر وزیر اعظم شہباز شریف اسرائیل کی ریاست کو تسلیم کر چکے ہیں اور ان کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنے کی کوشش میں ہیں۔ دشمن سے ہاتھ ملانا ہمادی اپنی ہی بربادی ہے۔
اگر آپ جان کے چلے جانے کے ڈر سے چپ رہیں گے تو دنیا میں تو آپ بچ پائیں گے مگر آخرت میں آپ کا بچنا آسان نہیں۔
لہٰذا مسجدوں میں ظلم کے خلاف اعلانِ عام ہونا چاہیے۔ لوگ آپس میں ملیں تو سب اسی مسئلے کو زیر بحث لائیں۔
اپنی اپنی مسجدوں میں عوام کو آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ ، علاقے کی تمام مسجدوں کے امام اور ارد گرد کے گاؤں کی مسجدوں کے امام ہر ہفتے ایک جگہ پر اکٹھا ہو کر آپس میں میٹنگ رکھیں تا کہ عوام کا کیا رد عمل ہے اور آگے کیا کرنا چاہے اس پر بات کی جاسکے ۔ جب دشمن ہمارے گھروں میں داخل ہو جائے تو یہ نہیں سوچتے کہ بندوق کی گولی کسی اہل حدیث سے لی گئی ہے یا دیوبندی ہے۔ کسی بریلوی سے لی گئی ہے یا شعیہ سے، اِسے چلا دینا چاہئے۔
کیا ہمارے گھر میں گھس کر کوئی شخص ہمارے آدھے بچوں کو، ماں باپ کو، بیوی کو یا شوہر کو قتل کر جائے اور بعد میں وہ شخص کھلے عام اس عمل پر فخر کرے کہ اُسکا مقصد تھا کہ ناحق قتل کردوں ، اور یہ بھی کہے کہ جو بچ گیا ہے اُسے بھی قتل کروں گا مگر ہم اسکو اپنا بھائی بنا لیں ؟ کیا قتل کا بدلہ قتل نہیں ؟
ہمارے 4 مسلمان بھائی اس وقت غزہ جانے والے فورٹیلہ میں امداد لے کر جا رہے تھے۔ کل ہی انھیں اسرائیل کی فوج نے حراست میں لے لیا ہے۔ کیا ہمیں ان کے لیے آواز اٹھانی نہیں چاہیے؟ امید ہو کہ آپ مسلمان ہونے اور انسان ہونے کے ناطے میری باتوں پر عمل کریں گے اور اسکو اہمیت دے کر کوئی ایکشن لیں گے۔
میرا کام آپ تک پیغام پہنچانا تھا. امید ہے کہ اللّٰه مجھ پر رحم کرے اور لوگوں تک آپ کے ذریعے پیغام پہنچ جائے ۔
جزاک اللّٰہ خیرًا