Are You sure you want to delete Member from list ?
کیا پاک سعودی معاہدہ ایک مُسلمِ نیٹو ہے؟
نیٹو ( NATO)
کیا ہے ؟
یہ 32 ممالک کے درمیان بنایا گیا ایک معاہدہ ہے جس میں یورپ اور مغربی امریکہ کے ممالک شامل ہیں ۔
یہ معاہدہ ان تمام 32 ممالک کو تحفظ دیتا ہے کہ اگر ایک ملک میں حملہ ہوا تو وہ باقی ممالک میں بھی حملہ تصّور ہوگا اور سب ممالک مل کر اسکا بھرپور جواب دیں گے ۔
(Attack against one member is attack aginst all)
17
ستمبر 2025 کو محمد بن سلمان اور شہباز شریف کے درمیان ہونے والے اس معاہدہ کا ایک پوائنٹ یہ روشنی ڈالتا ہے کہ ایک ملک پر حمله دوسرے ملک پر حملہ تصوّر ہوگا۔
یعنی کیا یہ معاہدہ
NATO
کی عکاسی ہے؟
یہ دفاعی معاہدہ ابھی صرف 2 ملکوں کے درمیان ہے ۔ آنے والے دونوں میں مزید اسلامی ممالک اسکا حصہ بنیں گے ۔ چونکہ پاکستان ایک ایٹمی ملک ہے اور اسرائیل کی جارحیت عرب ممالک میں بڑھتی جا رہی ہے تو عرب اپنی سیکیورٹی کے لیے اس ایگریمنٹ کا حصہ بننا چاہیں گے۔ لہٰذا یہ ایگریمنٹ مُسلمِ اُمه کا اتحاد ہے اور گلوبل ویو میں مسلمانوں کی دھاک بیٹھنے کا ذریعہ ہے ۔پاکستان ایک نیوکلیئر پاور ہونے کی حیثیت سے اور جغرافیائی نظر سے اہمیت کا حامل ہے جس میں ایران ، افغانستان ، چائنہ کی سرحدیں شامل ہیں. اس کے ساتھ جغرافیائی روسی قربت بھی امریکہ کے لیے چیک پوائنٹ ہے۔
اس سے پاکستانی کی حیثیت گلوبل ویو میں بہت بڑھ جاتی ہے ، اب ایک عام پاکستانی نےاپنے آپ کو سپر پاور کی سطح میں سوچا۔ اس کا آئی کیو بہت بڑھاہے۔
جو طاقتیں پوری دنیا میں اپنا اثر رکھتی ہیں ،وہاں پاکستانی اثر رکھنے کے قابل ہوا ہے۔ یہ معاہدہ سوچ کے نظرئیے اور
confidence boost
کرنےکا ہتھیار ہے۔ آپکی فیلڈ آف ویژن بہت وسیع ہو جاتی ہے ۔بحیثیت مسلمان، شانا بشانہ دنیا کے ہر مسئلے پر نظر رکھنا اور اسکا حل نکالنا،جبکہ اس میں کسی دور دراز کے پسماندہ ملک میں پانی کی عدم دستیابی سے لے کر اسرائیل کی زبردستی،ظلم و جبر جیسے جارحانہ رویے کو آڑے ہاتھوں لینا ہے۔
اس معاہدے کا پاکستان انڈیا کے گلوبل تعلقات پر پلڑا پاکستان کا بھاری پڑتا ہے ۔
معاشی طور پر (economically) سعودی عرب پاکستان کے ایٹمی سیکیورٹی کے بدلے اپنی وفاداری پاکستان سے نبھائے گا ۔
سعدیہ عرب کی دفاعی دیوار پاکستان کی آرمی ہے جس کا اثر ناصرف پاکستان کی تاریخ اور حالیہ میں بہت گہرا ہے بلکہ 1990 میں سعودی کو بھی اپنی خدمات پیش کر چکا ہے۔