Are You sure you want to delete Member from list ?
Fozia Ghafoor
CTb5
foziaghafoorfg1@gmail.com
کہتے ہیں Persia میں ایک رواج تھا۔ جیسے آجکل کا status کا مارا انسان کپڑے، موبائل ، اور گاڑیاں بدلتا ہے، ایسے ہی قدیم Persians اپنے خدا بدلا کرتے تھے۔ دوسرے کا نیا خدا دیکھ کر اپنے لیے بھی ایک نیا خدا گھڑ لیا کرتے تھے۔
کتنا fascinating اور mesmerizing ہوتا ہوگا نا خدا بدلنے کا یہ کھیل!
مطلب جب خدا ایک نہیں توکوئی fear of accountability nhi ۔ جب جو دل میں آئے وہی کر گزریں۔ کوئی خدا اعتراض بھی کرے تو الزام دوسرے خدا کے سر پہ رکھ کر خدائوں کو آپس میں لڑوا دیا اور پھر اپنا کوئی نیا خدا بنا لیا۔
مگر اس میں خدا بنانے والے کی اپنی کیا اوقات رہتی ہو گی؟
" دھوبی کا کتا گھر کا نہ گھاٹ کا "
ہمارے یہاں بھی آجکل حالات کچھ زیادہ مختلف نہیں۔ اس Persian روایت کو نئی جدت کے ساتھ دہرایا جا رہا ہے۔ اصل خدا کی اصل آواز کو پردوں میں لپیٹ کر کہیں چھپا دیا جاتا ہے اور کسی مردے کی طرح ناک کان میں روئی اور بند آنکھوں کے ساتھ نئے نئے خدائوں کے سامنے اپنی من مرادوں کے ساتھ پیش ہوا جاتا ہے۔
فلسطین کے بچوں کاتعلق تو اسی اصلی خدا کی ذات سے تھا۔ تو ہمیں ان کی چیخیں بھلا سنائی ہی کیوں دیتی؟
ہم تو تیل کی پھسلن بھرے فرش پہ پھسلتے ہوئے کسی اور خدا کے چرنوں میں پہنچ چکے ہیں، کانوں میں روئی ڈال کر، آنکھوں کو بند کر کے ۔
"نفس" کا یہ خدا بند آنکھوں سے ہی دکھائی دے سکتا ہے۔
تگ و دو تو بس اتنی سی ہے کہ "اس" خدا کو راضی کرنے کے لئے صرف دو چار ہی مزید خدائوں کی کچھ خاص مدت تک پوجا کرنی پڑ رہی ہے ۔ تو کیا ہوا ۔ پہلے بھی تو کرتے ہیں۔ لوگوں نے طعنہ دیا تو انکو ایک جانا پہچانا سا نام دے دینگے۔
"مصلحت"
خدا بدلنے کا کھیل بھی تو کھیلنا ہے نا !
اور نفس کا بھوکا پیٹ بھی بھرنا ہے۔ یہ سب ایک خدا کے ہوتے ممکن نہیں ۔ مگر یہ "اصل" خدا کے "اصل" دین پہ چلنے والے "اصل" لوگ نہیں سمجھتے۔
بس انہی کی خاطر تو "مصلحت" کا پرچم لہرایا جاتا ہے۔ ظالم کے خلاف جنگ کی بجائے ضرورت کے مطابق "ثالث" کا کردار نبھایا جاتا ہے۔
مظلوم کا بدلہ اور قصاص پس پشت بھی ڈال دیا تو کیا ہوا ؟ ظلم کچھ لمحے ٹھہر تو گیا نا !
پھر نفس کے کسی اور پیٹ کے ساتھ کسی اور خدا کو جوڑ لینگے ۔
خدا بنانا مشکل نہیں تو خدا بدلنے میں کیسی زہمت!
حکمرانوں کے لیے مصلحت کے نئے خدا گھڑنا شاید مشکل نہیں، مشکل تو اس 'اصل خدا' کے سامنے جوابدہی ہے جو مظلوم کی ہر آہ کا حساب رکھتا ہے۔
پھرے در بدر کچھ اس قدر ، پھرنہ بچی کچھ بھی قدر
انساں کے تخت سے یوں گرے، حیواں
رہے نہ شیطاں ہوئے