Are You sure you want to delete Member from list ?
ہر انسان مختلف جذبات سے گزرتا ہے کبھی خوف، کبھی غصہ، کبھی غم، کبھی خوشی مگر اکثر اوقات سمجھ نہیں آتا ان مواقع پر کرنا کیا ہے۔
یہیں پر علم کی ضرورت سامنے آتی ہے کیونکہ جذبات خود رہنمائی نہیں کرتے، بلکہ علم کے ذریعے ان کی بروقت درست نشاندہی کی جاسکتی ہے اور اس وقت کے کرنے کے کاموں پر توجہ دی جاسکتی ہے۔
یہ بات بھی سمجھنے کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صرف عبادات ہی نہیں سکھائیں بلکہ جذبات کو پہچاننے، سمجھنے اور ان کو ہینڈل کرنے کی بہترین رہنمائی بھی عطا فرمائی ہے۔ آپ ﷺ کی دعائیں اور اذکار دراصل انسان کے اندر چلنے والی کیفیات کو ہی درست رخ دینے کا ذریعہ ہیں۔
سب سے پہلا کرنے کا کام کسی بھی
emotion کے ناموں
کو جاننا ہے کہ ایک وقت میں انسان کس کیفیت سے گزر رہا ہے۔ یہ زبان سیکھنا اس لئے ضروری ہے تاکہ جذبات کو نام دیا جاسکے۔
جب ہم اپنے جذبات کو نام دیتے ہیں تو ہمیں خود کو سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے کہ ہمارے اندر کیا ہو رہا ہے اور کیوں
اس کے بعد اس ايموشن کو قبول کرنا کہ مجھے خوشی، غمی، پریشانی، خوف، حیرت، محبت، نفرت محسوس ہورہے ہیں۔ اکثر ہم اپنے جذبات کو Suppress کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
جذبات اس وقت
streamline ہوسکتے ہیں
جب ہم ان کو validate
کرکے address کریں
جن سات بنیادی جذبات سے انسان گزرتا ہے وہ درج ذیل ہیں:
*خوشی (Joy)*
خوشی وہ کیفیت ہے جس میں دل کشادہ ہو جاتا ہے… مگر اگر اس کے ساتھ شعور نہ ہو تو یہی خوشی غفلت بن جاتی ہے، اور انسان نعمت دینے والے کو بھول جاتا ہے۔علم سکھاتا ہے کہ ہر خوشی کے پیچھے اللہ کی عطا ہے… یوں یہی خوشی شکر میں بدل جاتی ہے۔
اور اسی جذبے کو سنبھالنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں شکر اور حمد کی طرف متوجہ کیا، تاکہ خوشی انسان کو اللہ سے دور نہ کرے بلکہ قریب کرے۔
✔ عمل: نعمتوں پر غور، کثرتِ حمد، سجدۂ شکر
*اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي بِنِعْمَتِهِ تَتِمُّ الصَّالِحَاتُ*
*غم (Sadness)*
غم وہ کیفیت ہے جب دل پر بوجھ محسوس ہوتا ہے، کسی کمی، نقصان یا محرومی کا احساس غالب آتا ہے… اگر اس کے ساتھ علم نہ ہو تو یہ مایوسی اور بے بسی میں بدل جاتا ہے۔
مگر علم انسان کو یاد دلاتا ہے کہ ہر حال اللہ کی تقدیر ہے… اور ہر تکلیف کے پیچھے حکمت ہے… یوں یہی غم صبر اور امید میں ڈھل جاتا ہے۔
اور یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ انسان اپنے غم کو اللہ کے سامنے رکھ دے، کیونکہ دل کا بوجھ وہی ہلکا کرتا ہے۔
✔ عمل: آیاتِ صبر، دعا، اللہ سے دل کی بات
*اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ عَلَىٰ كُلِّ حَالٍ*
*اللّٰهُمَّ أْجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي وَاخْلُفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا*
*الله الله ربي لا أشرك بي شيئا*
*محبت (Love)*
محبت وہ کشش ہے جو دل کو کسی کی طرف کھینچتی ہے… اگر یہ بے سمت ہو تو انسان کو آزمائش میں ڈال دیتی ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ کی حدود کو بھی نظر انداز کرنے لگتا ہے۔
علم سکھاتا ہے کہ محبت کی اصل پاکیزگی یہ ہے کہ وہ اللہ کے لیے ہو… اور اللہ کی اطاعت کے دائرے میں رہے۔
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کے ذریعے دلوں کی محبت کو اللہ کی رضا کے ساتھ جوڑنے کی تعلیم دی:
*اللّٰهُمَّ أَلِّفْ بَيْنَ قُلُوبِنَا*
✔ عمل: نیک صحبت، محبت کی حدود کو سمجھنا
*نفرت / کراہت (Disgust)*
یہ وہ کیفیت ہے جس میں دل کسی چیز کو ناپسند کرتا ہے… مگر اگر اس میں توازن نہ ہو تو یہ تکبر، سختی اور لوگوں سے دوری میں بدل جاتی ہے۔ علم سکھاتا ہے کہ نفرت کا رخ گناہ کی طرف ہو، نہ کہ انسان کی طرف… یوں دل نرم بھی رہتا ہے اور حق پر بھی قائم رہتا ہے۔:
✔ عمل: دل کی اصلاح، عاجزی کی دعا
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ دعا سکھائی جو دراصل جذباتی اور اخلاقی توازن کی حفاظت کرتی ہے
*اللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ مُنْكَرَاتِ الأَخْلَاقِ وَالأَعْمَالِ وَالأَهْوَاءِ*
*حیرت (Wonder)*
حیرت وہ کیفیت ہے جب انسان کسی چیز کو دیکھ کر رک جاتا ہے، سوچ میں پڑ جاتا ہے… مگر اگر یہ صرف دنیا تک محدود رہے تو غفلت بن جاتی ہے۔ علم اس حیرت کو اٹھا کر معرفتِ الٰہی تک لے جاتا ہے… کہ ہر چیز ایک نشانی ہے۔
✔ عمل: تدبر، کائنات اور قرآن میں غور
*رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ*
*خوف (Fear)*
خوف وہ کیفیت ہے جو دل کو سکیڑ دیتی ہے… انسان کو کمزور اور بے چین کر دیتی ہے… اگر یہ دنیا سے جڑ جائے تو وہم اور اضطراب پیدا کرتا ہے۔مگر علمِ توحید سکھاتا ہے کہ سب کچھ اللہ کے اختیار میں ہے… یوں یہی خوف خشیتِ الٰہی میں بدل جاتا ہے جو انسان کو سنبھال لیتا ہے۔
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایسے الفاظ سکھائے جو دل کے خوف کو اللہ پر توکل میں بدل دیتے ہیں:
*حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ*
✔ عمل: اذکار، اللہ کی صفات کا علم
*غصہ (Anger)*
غصہ وہ تیز کیفیت ہے جو اچانک بھڑک اٹھتی ہے… اور اگر قابو میں نہ رہے تو انسان کو ایسے فیصلوں تک لے جاتی ہے جن پر بعد میں ندامت ہوتی ہے۔
علم سکھاتا ہے کہ غصے کو دبانا نہیں بلکہ ضبط اور حکمت کے ساتھ سنبھالنا ہے۔
اور یہاں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عملی رہنمائی سامنے آتی ہے کہ غصے کے وقت انسان خاموش ہو جائے، وضو کرے یا اپنی حالت بدل لے۔
✔ عمل: خاموشی، وضو، جگہ بدلنا، سنت کی پیروی
جب علمِ نافع ساتھ ہو تو یہی جذبات انسان کو اللہ تک پہنچا دیتے ہیں… اسی لیے اپنی اصلاح کا آغاز علمِ نافع حاصل کرنے سے کریں کیونکہ وہی جذبات کو بھی سنوارتا ہے اور دل کو بھی۔
اگر دل میں علم نہ ہو تو:
* خوف وہم بن جاتا ہے
* غصہ ظلم بن جاتا ہے
* محبت اندھی وابستگی بن جاتی ہے
* خوشی غفلت میں بدل جاتی ہے